ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سماج وادی پارٹی کا تختہ پلٹ گیا؛ اُترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو سماج وادی پارٹی کے قومی صدر منتخب؛ شیوپال کی گدی گئی؛ امر سنگھ بھی باہر

سماج وادی پارٹی کا تختہ پلٹ گیا؛ اُترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو سماج وادی پارٹی کے قومی صدر منتخب؛ شیوپال کی گدی گئی؛ امر سنگھ بھی باہر

Sun, 01 Jan 2017 15:04:29    S.O. News Service

لکھنو یکم جنوری (ایس او نیوز/ ایجنسی). شدید سردی اور دھند کے درمیان آج لکھنؤ میں سیاست کا پارہ چڑھتا چلا گیا. وزیر اعلی اکھلیش یادو کو سماجوادی پارٹی کے اس مخصوص اجلاس میں قومی صدر منتخب کیا گیا، جس کو پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے غیر آئینی قرار دیا ہے. خیال رہے کہ سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے اس میٹنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ میٹنگ غیر قانونی ہے اور جو بھی اس میں شرکت کرے گا ان پر کارروائی کی جائے گی.

لکھنؤ کے جنیشور مشر پارک میں منعقدہ  پارٹی کے خصوصی ہنگامی اجلاس میں وزیر اعلی اکھلیش یادو کو قومی صدر منتخب کیا گیا ہے. اس میں ریاستی صدر شیو پال سنگھ یادو کے عہدے سے برطرفی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری امر سنگھ کو باہر کرنے کی تجویز پربھی مہر لگ گئی ہے. اجلاس میں پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو سرپرست اور رکن پارلیمان دھرمیندر یادو کو پارٹی کا صوبائی صدر منتخب کیا گیا ہے.

اس سے پہلے پارٹی کے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل رام گوپال یادو نے کہا کہ پورا ملک یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی تعریف کر رہا ہے. ایسے میں ان کی کوئی بات نہیں مانی گئی. انہوں نے کہا کہ اس وقت پارٹی کارکنوں نے اپیل کی کہ قومی اجلاس بلایا جائے. یہی وجہ ہے کہ پارٹی کا ہنگامی قومی اجلاس بلایا گیا ہے. رام گوپال یادو نے کہا کہ دو لوگوں نے پارٹی کو ختم کرنے کی سازش کی. انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں پہلی پیشکش متفقہ طور پر یوپی کے وزیر اعلی کو قومی صدر بنانے کی ہے اور انہیں یہ حق دینا ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کو ضرورت کے حساب سے قائم کریں.

رام گوپال یادو نے کہا کہ دوسری تحریک ملائم سنگھ یادوکو سماج وادی پارٹی کا سپریم لیڈر مانا جائے. تیسری تجویز یہ ہے کہ  شیو پال یادو کو اترپردیش کے پارٹی صدر کے عہدے سے فوری طور پر ہٹایا جائے اور امر سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا جائے.

اس موقع پر وزیر اعلی اکھلیش یادو نے تمام کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ ان لوگوں کے خلاف ہیں جنہوں نے پارٹی کے خلاف کام کیا ہے. انہوں نے کہا کہ اگر نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) کے خلاف سازش ہو اور پارٹی کے خلاف سازش ہو تو بیٹا ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہو. اکھلیش یادو نے کہا کہ پارٹی کا جہاں نقصان ہوگا وہاں کارروائی کرنی پڑے گی.

اکھلیش یادو نے کہا کہ پارٹی میں ایسے لوگ ہیں جو حکومت بنانا نہیں چاہتے ہیں، لیکن حکومت بنے گی تو نیتا جی کو سب سے زیادہ خوشی ہوگی. انہوں نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ پارٹی کی حکومت ایک بار پھر بنے. انہوں نے کہا کہ 3-4 ماہ سب سے زیادہ اہم ہیں. ایسے میں ایسے لوگوں کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے. انہوں نے پارٹی ممبران اسمبلی اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ نیتا جی کے بیٹے کی حیثیت سے مجھے جو کچھ بھی کرنا پڑے گا، کروں گا. انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایک سیکولر حکومت بنے، یہی امید کرتا ہوں. انہوں نے نئے سال کی سب کو مبارک باد دی.

اجلاس میں پارٹی کے ریاستی صدر شیو پال سنگھ یادو کے عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ہی امر سنگھ کو پارٹی سے ہی باہر کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے سے مہر لگ گئی. اجلاس میں ملائم سنگھ یادو کو پارٹی کا سرپرست بنایا گیا ہے. اس کے ساتھ ہی تمام قومی اور صوبائی کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کی تجویزبھی منظور کی گئی.

وزیر اعلی اکھلیش یادو کو کل ملائم کے گھر لے جا کر منسٹر اعظم خاں نے صلح کی کوشش کی تھی. یہاں اکھلیش یادو نے کہا بھی کہ انہیں وزیر اعلی کے عہدے کی چاہت نہیں. وہ سال 2017 میں اتر پردیش جیت کر نیتا جی کو تحفہ دیں گے. مگر نیتا جی (ملائم) کے خلاف کوئی سازش کرے گا تو برداشت نہیں کریں گے. اکھلیش کے اس موقف کے بعد صلح کی کوششوں کر پروان چڈھنے کا پیغام ملا،. پروفیسر رام گوپال یادو اور دیگر لوگوں سے بحث کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو نے خاموشی اختیار کر لی. ممبران اسمبلی سے کہا کہ جو بولنا ہے، وہ اجلاس میں بولوں گا. بعد میں رام گوپال نے کہا کہ قومی اجلاس ہو کر رہے گا.

خیال رہے کہ اس سے پہلے سنیچر کو اکھلیش سے ملنے کے بعد ملائم نے ان کی برخاستگي واپس لی تھی. ساتھ ہی رام گوپال کو بھی واپس اُن کے عہدے پر بحال کیا گیا تھا. شیو پال نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے، لیکن آج گاج انہی پر گری ہے.

قابل ذکربات یہ ہے کہ ہفتہ کو پارٹی میں گھمسان ​​کے درمیان ملائم سنگھ یادو کے ساتھ اکھلیش یادو اور اعظم خان کے اجلاس کے بعد اکھلیش اور رام گوپال یادو کی برطرفی واپس لے لی گئی تھی. اب ایک بار پھر دونوں کی پارٹی میں واپسی ہو گئی ہے. مانا جا رہا ہے کہ اس مصالحت کے لئے اعظم خان نے ثالثی کا کردار ادا کیا. انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ایک بار پھر صلح کی گنجائش بنی اور ایس پی سربراہ نے میٹنگ ختم ہونے کے فوری بعد اکھلیش یادو اور رام گوپال یادو کے اخراج کو منسوخ کرتے ہوئے ان کی پارٹی میں واپسی کا فیصلہ لیا.

اس اجلاس میں شیو پال اور ابو عاصم اعظمی بھی موجود تھے. اجلاس میں اعظم خان نے اکھلیش کے ساتھ مل کر امر سنگھ کو نکالنے کا مطالبہ بھی کیا. اعظم خان نے کہا کہ اگر امر سنگھ کو نکالا جاتا ہے تو سب ٹھیک ہو جائے گا.


Share: